کراچی…رفیق مانگٹ…امریکا کے طالبان کے ساتھ خفیہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔مذاکرات اور اجلاسوں کی معلومات افشاء ہونے کے بعدطا لبان مذاکرات کار نظر نہیں آیا۔ابتدائی مرحلے پر بات چیت کی ناکامی سے امریکا میں خوف کی لہر ہے۔ اجلاسوں کی تفصیلات اور مذاکرات میں حصہ لینے والے طالبان کے سربراہ کی شناخت کی تفصیلات جان بوجھ کر افغان حکومت کے کسی پاگل یا خوفزدہ شخصیت نے افشاء کی۔برطانوی اخبارات ’ٹیلی گراف ‘اور’انڈیپنڈینٹ‘ کے مطابق امریکا کے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اجلاسوں کی تفصیلات کے افشاء ہونے کے بعد ناکامی سے دو چار ہوگئے۔ مغربی سفارت کاروں نے کہا ہے کہ مذاکرات کی تفصیلات فاش ہونے سے امریکا اور طالبان قیادت کے درمیان امن مذاکرات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے تھے۔
ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کے خاتمے سے ایک دوسرے پر الزام تراشی اوردعوے کیے گئے کہ اجلاسوں کی تفصیلات اور مذاکرات میں حصہ لینے والے طالبان کے سربراہ کی شناخت کی تفصیلات جان بوجھ کر افغان حکومت کے کسی پاگل یا خوفزدہ شخصیت نے افشاء کی ۔ایک سال قبل ملا عمر کے سابق پرائیویٹ سیکریٹری طیب آغا اور امریکا کے وزارت داخلہ اور سی آئی اے کے درمیان جرمنی اور قطر میں ہونے والے مزاکرات اور اجلاسوں کو خفیہ رکھنے کی کڑی شرط لگائی گئی تھی۔ان اجلاسوں کی صدارت افغانستان اور پاکستان کے لیے جرمنی کے خصوصی نمائندے مائیکل اسٹینر صدارت کر رہے تھے۔ اخبار کے مطابق قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات امریکااور اس کے اتحادیوں کے طالبان کے ساتھ ابتدائی اعتماد سازی کے اقدامات کے سلسلے میں تھے۔ تاکہ طالبا ن کو راضی کیا جاسکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان رہنما مذاکرات کرنے سے اس لیے ہچکا رہے تھے کہ ان کے زیادہ تر کمانڈر یہ خیال کرتے ہیں کہ امریکا بات چیت پر آمادگی صرف ان کی تحریک کو تقسیم کرنے کے لئے کر رہا ہے اور خدشہ ہے ان کا امریکا کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں شامل ہونا ان کی ساکھ کو بڑے پیمانے پر نقصان دے سکتا ہے۔ جرمنی اور قطر میں مارچ اور اپریل کو ہونے والے دو تفصیلی اجلاس کے بعد صرف تین سیشن ہوئے تھے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور جرمن جریدے در اشپیگل نے ان مذاکرات کی معلومات کا انکشاف کردیا کہ ان مذاکرات میں طالبان کی طرف سے آغا حصہ لے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت سے طیب آغاکونہیں دیکھاگیا۔ طالبان کے ساتھ بات چیت ایک بڑا سودا تھا اور یہ حقائق پر مبنی تھے۔ ذریعے کے مطابق امریکا میں لوگ ان مذاکرات کی ناکامی بعد انتہائی خوفزدہ ہو گئے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔
Recent Comments